William shakespeare biography in urdu language

برطانوی ادیب اور شاعر ولیم شیکسپیئر کے بغیر انگریزی ادب کی تاریخ ادھوری ہے۔ اس زمانے میں‌ جب تھیٹر ہی تفریح کا اکلوتا اور مقبول ترین ذریعہ تھا، شیکسپیئر نے اپنے ڈراموں کی بدولت لازوال شہرت پائی۔ شیکسپیئر 23 اپریل ء کو چل بسا تھا۔

ڈرامہ نویس اور شاعر شیکسپیئر کو عالمی شہرت نصیب ہوئی۔ وہ ء میں برطانیہ میں پیدا ہوا۔ شیکسپیئر معمولی تعلیم حاصل کرسکا۔ اسے نوجوانی میں معاش کی غرض سے لندن جانا پڑا جہاں‌ ایک تھیٹر میں اسے معمولی کام مل گیا۔ اسی عرصہ میں شیکسپیئر کو لکھنے لکھانے کا شوق ہوا اور اس نے اداکاری بھی کی۔

وہ پہلے چھوٹے موٹے کردار نبھاتا رہا اور پھر تھیٹر کے لیے ڈرامے لکھنے لگا۔ اس کے قلم کے زور اور تخیل کی پرواز نے اسے ء تک زبردست شہرت اور مقبولیت سے ہم کنار کردیا اور وہ لندن کے مشہور تھیٹر کا حصّہ بنا۔ اسی عرصے میں اس نے شاعری بھی شروع کردی اور آج اس کی تخلیقات انگریزی ادبِ عالیہ میں شمار کی جاتی ہیں۔

انگلستان کے شعرا میں جو شہرت اور مقام و مرتبہ شیکسپیئر کو حاصل ہوا وہ بہت کم ادیبوں اور شاعروں‌ کو نصیب ہوتا ہے۔ اس برطانوی شاعر اور ڈراما نگار کی ادبی تخلیقات کا دنیا بھر کی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جن میں‌ اردو بھی شامل ہے۔ ہملٹ اور میکبتھ جیسے ڈراموں کے اردو تراجم بہت مقبول ہوئے، اس کے علاوہ شیکسپیئر کی شاعری کا بھی اردو ترجمہ ہوا۔ اس نے طربیہ، المیہ، تاریخی اور رومانوی ہر قسم کے ڈرامے لکھے جنھیں‌ تھیٹر پر بہت پذیرائی ملی۔ ان کے ڈراموں میں نظمیں بھی شامل ہوتی تھیں اور یہ اس مصنف اور شاعر کے طرزِ تحریر میں جدتِ اور انفرادیت کی ایک مثال ہے جس نے اس وقت پڑھنے اور ڈراما دیکھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

نقد و نظر کے ساتھ شیکسپیئر کے بارے میں بعض دل چسپ باتیں بھی سامنے آتی ہیں۔ مثلاً یہ امر تعجب خیز بھی ہے اور دل چسپ بھی کہ ولیم شیکسپیئر کی زندگی میں ان کے ڈراموں میں عورت کا کردار بھی مرد اداکار ہی نبھاتے رہے۔ اس کی وجہ جانتے ہیں۔

اوتھیلو شیکسپیئر کا وہ مشہور کھیل ہے جس میں‌ ایک با وفا اور نہایت محبّت کرنے والی بیوی کا کردار بھی دکھایا گیا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس ڈرامے کو ضبطِ تحریر میں‌ آئے 60 سال بیت چکے تھے، جب پہلی مرتبہ اس ڈرامے میں بیوی کا کردار ایک خاتون نے نبھایا۔

شیکسپیئر کی تخلیقات سے کے درمیانی عرصے کی ہیں جسے برطانیہ میں‌ جدید اسٹیج ڈراموں کا ابتدائی دور بھی کہا جاتا ہے۔ اس وقت مرد فن کار ہی عورتوں کے روپ میں ان کے کردار نبھاتے نظر آتے تھے۔

میں شیکسپیئر کے ڈراموں کے شائقین نے پہلی مرتبہ کسی عورت کو اسٹیج پر اداکاری کرتے ہوئے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ اس زمانے میں غالباً برطانیہ میں فن کار اور عوام بھی اداکاری بالخصوص اسٹیج پرفارمنس کے لیے خواتین کو موزوں خیال نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا طبقہ ایسا تھا جن کے نزدیک سماج میں‌ عورتوں کا اسٹیج پر اداکاری کرنا معیوب تھا۔ ایسا نہیں‌ تھا کہ برطانیہ میں‌ خواتین کو اس فن سے وابستہ ہونے کی اجازت نہ تھی بلکہ دیگر ممالک میں‌ عورتیں‌ اداکاری اور رقص و موسیقی سے وابستہ تھیں اور شہرت رکھتی تھیں، لیکن وہاں بہتر سمجھا جاتا تھا کہ مرد ہی ہر ڈرامے میں عورت کا کردار نبھائیں۔ تاہم اس وقت برطانوی خواتین فن کاروں کے ملبوسات کی تیّاری، ان کے لیے بہروپ سازی کا سامان، ٹکٹ اور کھانے پینے کی اشیا بیچنے کا کام کرتی تھیں۔

ء میں سارہ برن ہارٹ وہ اداکارہ تھیں جنہوں نے ہیملٹ کا مرکزی کردار نبھایا اور بعد کے برسوں میں‌ کئی برطانوی اداکاراؤں نے شیکسپیئر کے ڈراموں میں‌ کام کرکے نام کمایا۔

Comments